معاشرے اس وقت کمزور پڑ جاتے ہیں جب ناانصافی کو معمول سمجھ لیا جائے اور ظلم پر خاموشی اختیار کر لی جائے۔ حالیہ دنوں میں جو واقعات سامنے آئے ہیں، وہ اسی خطرناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ دو نوجوان وکلا کے ساتھ ہونے والا سلوک اور انہیں دہشت گرد قرار دینا ہو، یا ستر سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد کا محض اپنے ضمیر پر قائم رہنے کی پاداش میں دو برس سے قید میں ہونا — یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ تشدد اور جبر کو آہستہ آہستہ قابلِ قبول بنا دیا گیا ہے۔
جب قانون کی پاسداری کرنے والے، تعلیم یافتہ اور باشعور افراد خود نشانہ بننے لگیں تو یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ اختلافِ رائے کو جرم سمجھنا، سوال اٹھانے والوں کو غدار یا دہشت گرد قرار دینا، اور بزرگوں و خواتین کو بھی رعایت نہ دینا اس بات کی علامت ہے کہ طاقت کا استعمال اصولوں پر حاوی ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد جیسے افراد، جنہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کی، اگر وہ صرف اپنے ضمیر کی آواز سننے کے باعث قید میں رہیں تو یہ انصاف کے نظام پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ اسی طرح نوجوان وکلا کے ساتھ ہونے والا رویہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اب پیشہ، عمر یا کردار کسی کو تحفظ فراہم نہیں کر پا رہا۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ اگر آج ہم نے اس رویے کے خلاف آواز بلند نہ کی تو کل اس کی قیمت ہر شہری کو ادا کرنا پڑے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم کے سامنے اجتماعی مزاحمت ختم ہو جائے تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہتا۔
معاشرے کو تشدد، جبر اور خوف کی فضا سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ قانون کو طاقت نہیں بلکہ انصاف کا ذریعہ بنایا جائے۔ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، اور انسانی وقار کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم یہ فیصلہ کریں کہ کیا ہم ناانصافی کو معمول بننے دیں گے یا ایک منصفانہ، مہذب اور باوقار معاشرے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ کیونکہ اگر آج آواز نہ اٹھی، تو کل شاید آواز اٹھانے والا کوئی باقی نہ رہے۔
