پاکستان کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے لیے گئے 2 ارب ڈالر کے قرض میں عارضی ریلیف مل گیا ہے، کیونکہ یو اے ای نے موجودہ 6.5 فیصد شرحِ سود پر اس قرض کو ایک ماہ کے لیے رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ وفاقی حکام نے پیر کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
یہ قلیل مدتی توسیع ایسے وقت میں دی گئی ہے جب اسلام آباد یو اے ای کے ساتھ قرض کی مدت میں اضافے اور شرحِ سود میں کمی کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، تاکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق یو اے ای نے دو علیحدہ ایک، ایک ارب ڈالر کی سہولیات میں توسیع دی ہے، جن کی مدت بالترتیب 16 اور 22 جنوری کو ختم ہو گئی تھی۔ اس توسیع کا مقصد قرض کی مدت اور قیمت سے متعلق مزید مذاکرات کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ قرض کو دو سال کے لیے رول اوور کیا جائے اور شرحِ سود کو کم کر کے تقریباً 3 فیصد تک لایا جائے، جس کے لیے حکومت نے بہتر کریڈٹ پروفائل اور عالمی سطح پر سازگار قرض گیری کے حالات کا حوالہ دیا ہے۔
ایک ماہ کی یہ توسیع ماضی کے طریقہ کار سے مختلف ہے، کیونکہ اس سے قبل عام طور پر قرضوں کو سالانہ بنیادوں پر رول اوور کیا جاتا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قرض کی حتمی مدت اور شرحِ سود سے متعلق واضح فیصلہ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، جو پاکستان کی مالی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت یو اے ای، سعودی عرب اور چین نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ستمبر 2026 تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں مجموعی طور پر 12.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس برقرار رکھیں گے۔
یو اے ای سے لیا گیا 2 ارب ڈالر کا قرض پاکستان کے تقریباً 16 ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ ذخائر کا ایک بڑا حصہ ہے، جس پر موجودہ شرحِ سود کے مطابق سالانہ تقریباً 130 ملین ڈالر کا سود ادا کیا جاتا ہے۔
پاکستان 2018 سے یو اے ای کی مالی معاونت پر انحصار کر رہا ہے، جب پہلی مرتبہ 2 ارب ڈالر کی سہولت حاصل کی گئی تھی۔ بعد ازاں 2023 میں آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے مزید ایک ارب ڈالر کا قرض لیا گیا۔ اگرچہ ابتدا میں شرحِ سود تقریباً 3 فیصد تھی، تاہم گزشتہ سال اسے بڑھا کر 6.5 فیصد کر دیا گیا، جس کے بعد پاکستان نے شرحِ سود میں کمی کی درخواست کی۔
یہ عارضی رول اوور اگرچہ فوری طور پر ریلیف فراہم کرتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق پاکستان کو اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کے تحفظ اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی استحکام کے لیے ایک طویل المدتی حل کی اشد ضرورت ہے۔
