Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

فیصل مسجد میں نامناسب لباس اور ویڈیوز بنانے پر پابندی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

فیصل مسجد میں نامناسب لباس اور ویڈیوز بنانے پر پابندی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

اسلام آباد: فیصل مسجد میں نامناسب لباس میں داخلے اور سوشل میڈیا ویڈیوز بنانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

درخواست ایک شہری کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ سوشل میڈیا پر متعدد ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں بعض افراد مسجد کے احاطے میں غیر شائستہ انداز میں ویڈیوز بناتے نظر آتے ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق ایسی حرکات — خصوصاً موسیقی اور رقص کے پس منظر میں بننے والی ویڈیوز — فیصل مسجد کی حرمت اور تقدس کے منافی ہیں اور عوامی دل آزاری کا باعث بنتی ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مسجد کے احاطے میں نیم عریاں لباس یا غیر مناسب انداز اپنانا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 20 کے تحت مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

درخواست گزار نے بتایا کہ اس حوالے سے پہلے بھی مسجد کے انچارج، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے، وزیر مذہبی امور، صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور آئی جی اسلام آباد کو تحریری شکایات بھیجی جا چکی ہیں، تاہم کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فیصل مسجد کے تقدس کے تحفظ کے لیے

فحش یا نامناسب لباس میں داخلے پر پابندی،

رقص، موسیقی یا ویڈیو شوٹنگ کے لیے مسجد کے استعمال پر مکمل پابندی
عائد کی جائے۔

عدالت نے ابتدائی طور پر درخواست قابلِ سماعت ہونے پر نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates