لاہور کی مقامی عدالت نے یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ سے مبینہ طور پر رشوت لینے کے الزام میں ملوث این سی سی آئی اے (NCCIA) کے چھ افسران کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے اس حوالے سے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے ایف آئی اے کو آگاہ کیا کہ تفتیشی افسران شعیب ریاض اور سرفراز چوہدری نے ’’ریلیف‘‘ دینے کے نام پر رشوت طلب کی۔ درخواست گزار اروب جتوئی نے افسران کو دی جانے والی رقم سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کیں، تاہم درخواست میں کرنسی نوٹوں کی نوعیت، وقت اور تاریخ کا ذکر موجود نہیں تھا۔ اروُب جتوئی نے یوٹیوبر کے بھائی ضیاالرحمان کو بطور گواہ پیش کیا، جبکہ تفتیشی افسر نے دونوں سے تمام شواہد، تفصیلات اور چیکس کی تصاویر قبضے میں لے لیں۔ اروُب جتوئی کے بیان کے مطابق، متعلقہ افسران باقاعدگی سے اپنے اعلیٰ عہدیداروں کو ماہانہ رقم بھی پہنچاتے ہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تفتیشی رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک بڑے پیمانے پر فعال ہے اور اس سے منسلک مزید شواہد سامنے آ سکتے ہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزمان سے رقم کی برآمدگی کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جسے عدالت نے قبول کرتے ہوئے تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔