اسلام آباد: پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر میں ای-کورٹس سسٹم کے قیام کے لیے روڈ میپ کو حتمی شکل دی گئی۔ یہ اقدام پاکستان کی عدلیہ کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے عمل میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اجلاس میں جج صاحبان محمد علی مظہر، ہارون رشید، بیرسٹر علی ظفر اور مختلف اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
عدلیہ کی ڈیجیٹل تبدیلی
چیف جسٹس آفریدی نے اجلاس میں کہا کہ عدلیہ کا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن منصوبہ عوامی مفاد میں اصلاحات کا حصہ ہے جس کا مقصد عدالتی نظام کو شفاف، مؤثر اور ہر شہری کے لیے قابل رسائی بنانا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ شفافیت اور کارکردگی بڑھانا عدالتی اصلاحات کا بنیادی مقصد ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ نئے ڈیجیٹل نظام کو کامیابی سے نافذ کیا جا سکے۔
🛠️ مشاورتی عمل اور نفاذ
چیف جسٹس آفریدی نے فیڈرل جسٹشل اکیڈمی کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ اداروں اور ماہرین کے ساتھ مشاورتی عمل میں تیزی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ اشتراک اور تعاون ای-کورٹس منصوبے کی مؤثر اور بروقت عمل آوری کے لیے نہایت اہم ہے۔
جدید سہولیات اور پائیداری
چیف جسٹس نے اعلان کیا کہ اگست 2026 تک پاکستان کی تمام عدالتیں شمسی توانائی (Solar Energy) پر منتقل کر دی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ای-لائبریریاں، خواتین کے لیے سہولتی مراکز، اور صاف پانی کی سہولیات بھی مکمل کی جائیں گی۔
یہ اصلاحات عدالتی نظام کو تیز، جدید اور عوام کی ضروریات کے مطابق بنانے میں مدد دیں گی، تاکہ انصاف تیزی اور شفافیت کے ساتھ فراہم کیا جا سکے۔
ای-کورٹس کا اثر
ای-کورٹس کے نفاذ سے پاکستان کی عدلیہ میں تاخیر کم ہوگی، فیصلوں تک رسائی آسان ہوگی، اور شہریوں کے لیے عدالتی عمل مزید سہل اور شفاف بنے گا۔ یہ اقدام عدلیہ کی جدت، پائیداری اور عوامی خدمت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
