ایران میں جاری معاشی دباؤ اور عوامی مشکلات ایک بار پھر بڑے پیمانے پر احتجاج کا سبب بن گئی ہیں۔ مختلف اطلاعات کے مطابق ملک کے کم از کم تیرہ صوبوں میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ مظاہرین کی جانب سے روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بے روزگاری اور حکومتی فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں دیکھنے میں آئیں، جہاں بعض مقامات پر حالات کشیدہ ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، تاہم سرکاری سطح پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ معاشی مشکلات نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جس کے باعث احتجاج ناگزیر ہو چکا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت نے عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال نے نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ خطے میں ایران کی مجموعی صورتحال پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
