لاہور – پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کی معطلی پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ منگل کے روز انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ لینڈ مافیا کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس قانون کی معطلی سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ طاقتور جاگیرداروں کو عام شہریوں پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ قانون غریب اور کمزور طبقے کے پراپرٹی مالکان کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا، تاکہ زمین کے تنازعات جو برسوں تک لٹکے رہتے تھے، انہیں 90 دن کے اندر حل کیا جا سکے۔
اس قانون کے تحت زمین پر ناجائز قبضے کے خلاف سخت سزائیں مقرر کی گئی تھیں، جن میں 5 سے 10 سال قید شامل ہے، جبکہ مقدمات کے فوری فیصلے کے لیے ضلعی تنازع حل کمیٹیاں (ڈی آر سیز) قائم کی گئی تھیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے اس قانون کو معطل کرتے ہوئے اس کے تحت ہونے والی پراپرٹی منتقلیوں کو بھی کالعدم قرار دینے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جائیداد کے ریکارڈ کی درستگی، ریونیو افسران کے کردار اور ڈی آر سیز کو دیے گئے اختیارات پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عدالت کے مطابق یہ قانون سول ججز کے اختیارات کو کمزور کر سکتا ہے اور سرکاری افسران کو غیر معمولی طاقت دے کر شہریوں کے حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے خبردار کیا کہ قانون کی معطلی سے لاکھوں افراد، خصوصاً بیواؤں اور غریب شہریوں کی امیدوں کو شدید دھچکا لگے گا، جو پہلی بار زمین پر ناجائز قبضے کے خلاف مؤثر طور پر آواز اٹھانے کے قابل ہوئے تھے۔
