پنجاب کے سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مخصوص کوٹہ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے، کیونکہ صوبائی حکومت اب تک بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کے لیے نشستیں بڑھانے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔
فی الحال صوبے کے 20 سرکاری اداروں میں صرف 66 نشستیں مختص ہیں، جو مجموعی نشستوں کا دو فیصد سے بھی کم حصہ بنتی ہیں۔
اپریل میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ ملک بھر کے میڈیکل کالجوں میں 15 فیصد مخصوص کوٹہ منظور کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس فیصلے سے 3 ہزار سے زائد طلبہ کو پاکستان میں میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
اس کے بعد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کو خط جاری کیا کہ حکومتی حکم پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن اکتوبر میں جب پنجاب نے 2025-26 کا ایڈمیشن پالیسی نوٹیفکیشن جاری کیا تو اس میں وعدہ کیا گیا اضافہ شامل ہی نہیں تھا۔
ایک اعلیٰ افسر کے مطابق نہ صرف کوٹہ برقرار رہا بلکہ سرکاری کالجوں میں اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے فری ایجوکیشن کی سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے۔ نئے قواعد کے تحت اوورسیز پاکستانی نشستوں پر اپلائی کرنے والے طلبہ کو سالانہ 10 ہزار ڈالر فیس ادا کرنی ہوگی۔
پنجاب کے 20 سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں مجموعی طور پر 3,379 نشستیں ہیں —
3,121 ایم بی بی ایس اور 258 بی ڈی ایس۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم کی ہدایات صرف نجی کالجوں پر لاگو ہوتی تھیں، جہاں پہلے ہی 15 فیصد کوٹہ موجود ہے۔ تاہم نجی کالجوں میں ساڑھے 25 لاکھ روپے سالانہ تک کی بھاری فیس کی وجہ سے اوورسیز خاندان زیادہ تر وہاں اپلائی نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم خاندانوں کی اصل خواہش یہ ہے کہ سرکاری کالجوں میں نشستیں بڑھائی جائیں، کیونکہ نئی مقرر کردہ فیس ادا کرنے کے باوجود وہ سرکاری اداروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر کوٹہ دو فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا جائے تو اوورسیز نشستیں موجودہ 66 سے بڑھ کر تقریباً 500 ہو جائیں گی۔
اہلکار کے مطابق صوبائی حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا مستقبل میں کوٹہ سسٹم کو برقرار رکھا جائے یا نہیں، کیونکہ سرکاری اداروں پر معیارِ تعلیم برقرار رکھنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب ایک اوورسیز پاکستانی نے UHS کے مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ PMDC کے 23 مئی کے نوٹیفکیشن میں واضح طور پر 15 فیصد فارن سیٹس کی اہلیت کا تعین کیا گیا تھا، اور اس میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ یہ کوٹہ صرف نجی اداروں تک محدود ہے۔
ان کے مطابق یہ نوٹیفکیشن سرکاری اور نجی دونوں میڈیکل و ڈینٹل کالجوں پر لاگو ہوتا ہے۔
