خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں نایاب جنگلی جانور مارخور کے شکار کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں شکار کے اجازت نامے کی بھاری قیمت نے عوام، ماہرینِ ماحولیات اور سیاحتی حلقوں میں خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق محدود کوٹے کے تحت مارخور کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے، جس کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے آمدن کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس سال بھی شکار کے اجازت نامے کی قیمت غیر معمولی حد تک زیادہ رہی، جسے ملکی و غیر ملکی حلقوں میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق شکار سے حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر خرچ کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سخت نگرانی اور مقررہ قوانین کے تحت شکار کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ مارخور کی نسل کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق چترال میں کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن ماڈل کے باعث مارخور کی آبادی میں گزشتہ برسوں کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے، جسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم بعض حلقے اس عمل پر تنقید بھی کرتے ہیں اور نایاب جانوروں کے شکار کو اخلاقی طور پر نامناسب سمجھتے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس نظام سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں بلکہ علاقے میں سیاحت کو بھی فروغ ملا ہے۔ چترال میں مارخور کا شکار ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ تحفظِ فطرت اور معاشی مفادات کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
