وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے نئے انعامی اور مراعاتی اقدامات کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد فورس کے افسران و عملے کی زندگی اور پیشہ وارانہ ترقی کو بہتر بنانا ہے۔ ان اعلانات میں پولیس اہلکاروں کو رہائشی پلاٹس فراہم کرنا اور بیرونِ ملک پیشہ وارانہ اسکالرشپس شامل ہیں، جو ملک بھر کے پولیس عملے کو دی جائیں گی۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیرِ تربیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ASPs) کو ہر سال آسان اقساط پر رہائشی پلاٹس فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے ابتدائی کیریئر کے دوران اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ اس سکیم سے پولیس نوجوانوں کو مالی تحفظ اور مستقل رہائش کے فوائد ملیں گے۔
مزید برآں، وفاقی حکومت نے پولیس افسران اور جوانوں کے لیے بیرونِ ملک اسکالرشپس کی بھی منظوری دی ہے۔ ہر سال دس انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو پولیسنگ اور سیکیورٹی میں اعلیٰ تربیت کے لیے بین الاقوامی سطح کے کورسز پر بھیجا جائے گا۔ اس کے علاوہ پانچ سینئر افسران (SP اور SSP) کو مصنوعی ذہانت (AI) جیسے جدید شعبوں میں ڈگری حاصل کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے، جس کا مقصد پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے
یہ اقدام پولیس فورس کے لیے ایک ترقی پسند اور مستقبل بین پالیسی کے طور پر دیکھاجا رہا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف اہلکاروں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کو پولیس ملازمین کے لیے متحرک اور فعال ادارہ بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ ان اقدامات کا باقاعدہ نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔ ایکسپریس اردو
یہ سکیم پولیس اہلکاروں کی خدمات کا اعتراف ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کی ایک بڑی کوشش قرار دی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور ان کے پیشہ سے وابستہ خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
