Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

سڈنی کے بونڈی بیچ پر فائرنگ، 11 افراد ہلاک، یہودی تقریب کو نشانہ بنایا گیا

سڈنی کے بونڈی بیچ پر فائرنگ، 11 افراد ہلاک، یہودی تقریب کو نشانہ بنایا گیا

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں واقع بونڈی بیچ پر اتوار کے روز ہونے والی فائرنگ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں ایک یہودی مذہبی تقریب کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ یہودیوں کے خلاف نفرت پر مبنی ایک منظم اور ہدفی حملہ تھا، جو حنوکہ (Hanukkah) کی تقریب کے دوران پیش آیا، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے۔

حنوکہ تقریب کے دوران حملہ

یہ فائرنگ گرمیوں کی ایک مصروف شام بونڈی بیچ پر ہوئی، جو آسٹریلیا کے مقبول ترین عوامی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ پولیس کے مطابق تقریب میں تقریباً ایک ہزار افراد موجود تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فائرنگ تقریباً دس منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد لوگ جان بچانے کے لیے ساحل، قریبی سڑکوں اور پارکوں کی جانب بھاگ نکلے۔ خوف و ہراس کے عالم میں کئی افراد اپنا سامان وہیں چھوڑ گئے۔

واقعے میں کم از کم 29 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا، زخمیوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ایک مشتبہ حملہ آور موقع پر ہی مارا گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں زیرِ علاج ہے۔ حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا کوئی تیسرا حملہ آور بھی اس واردات میں ملوث تھا یا نہیں۔

راہگیر کی غیر معمولی بہادری

حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایک عام شہری کی بہادری نہ ہوتی تو ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔ مقامی میڈیا نے اس شخص کی شناخت احمد الاحمد کے نام سے کی ہے، جو 43 سالہ فروٹ شاپ کے مالک ہیں۔

ویڈیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ احمد الاحمد نے پیچھے سے ایک مسلح شخص پر حملہ کیا، اس سے جھڑپ کی اور اس کے ہاتھ سے رائفل چھین لی۔ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِ اعلیٰ کرس منس نے ان کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدام سے کئی جانیں بچ گئیں۔ انہوں نے انہیں “حقیقی ہیرو” قرار دیا۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ تعینات

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کمشنر مال لینن نے بتایا کہ جائے وقوعہ کے قریب مشتبہ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کی اطلاع پر بم ڈسپوزل یونٹ کو طلب کیا گیا ہے۔ آسٹریلوی انٹیلی جنس چیف مائیک برجس نے تصدیق کی کہ ایک مشتبہ شخص پہلے سے حکام کے علم میں تھا، تاہم اسے فوری خطرہ تصور نہیں کیا گیا تھا۔

واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

قومی سلامتی کا ہنگامی ردعمل

وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور اس حملے کو “ناقابلِ فہم شر انگیزی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ حنوکہ کے پہلے دن یہودی آسٹریلوی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا، جو خوشی اور عبادت کا دن ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پولیس اور انٹیلی جنس ادارے واقعے میں ملوث تمام عناصر کی شناخت کے لیے کام کر رہے ہیں۔

عینی شاہدین کا خوفناک منظر بیان

بونڈی کے رہائشی مارکوس کاروالہو نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً 40 سے 50 گولیوں کی آوازیں سنیں۔ ان کے مطابق فائرنگ سنتے ہی لوگ خوفزدہ ہو کر ہر سمت بھاگنے لگے اور کسی کو کچھ سنبھالنے کا موقع نہیں ملا۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates