پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں کا نیا نظام نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تیز رفتاری، اشارہ توڑنے، اوورلوڈنگ اور دھوئیں خارج کرنے جیسے عام ٹریفک مسائل پر سختی سے قابو پانا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ روڈ سیفٹی بہتر بنانے اور ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے کیا گیا ہے۔
نئے جرمانوں کی تفصیل
1. تیز رفتاری (Speeding)
موٹر سائیکل: 2,000 روپے
کار: 5,000 روپے
2. اشارہ توڑنا (Red Light Violation)
تھری وہیلر: 3,000 روپے
کار: 5,000 روپے
2,000 سی سی سے کم گاڑیاں: 10,000 روپے
2,000 سی سی سے زائد گاڑیاں: 15,000 روپے
3. اوورلوڈنگ (Overloading)
تھری وہیلر: 3,000 روپے
2,000 سی سی سے کم گاڑی: 5,000 روپے
2,000 سی سی سے زائد گاڑی: 10,000 روپے
ٹریلر: 15,000 روپے
4. دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں (Polluting Vehicles)
موٹر سائیکل: 2,000 روپے
تھری وہیلر: 3,000 روپے
بڑی گاڑیاں: 8,000 روپے
کمرشل ٹرانسپورٹ: 15,000 روپے
حکومت کا مؤقف
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ برسوں میں جرمانوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے جس کا مقصد خطرناک ڈرائیونگ، ٹریفک حادثات، ماحولیاتی آلودگی اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کو کم کرنا ہے۔
اہم مقاصد:
تیز رفتار گاڑی چلانے کی حوصلہ شکنی
حادثات میں کمی
شہری علاقوں میں بہتر ٹریفک نظم
آلودگی اور اوورلوڈنگ سے ہونے والے مسائل میں کمی
سڑکوں پر پیدل چلنے والوں اور خاندانوں کے لیے زیادہ محفوظ ماحول
حکام کو یقین ہے کہ سخت سزاؤں سے نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بہتر ہوگا بلکہ طویل مدت میں پنجاب میں سڑکوں کا ماحول زیادہ محفوظ اور منظم ہو جائے گا۔
