Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

سندھ کا 180 ارب روپے کا مطالبہ — تیل کی فراہمی کو سنگین خطرہ

اسلام آباد — سندھ حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (SIDC) کے طور پر سامنے آنے والے 180 ارب روپے کے دعوے نے ملک کی پٹرولیم سپلائی کے نظام میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ آئل کمپنیوں کو لازمی بینک گارنٹی جمع کرانے کا حکم جاری کیا گیا ہے، ورنہ بندرگاہ پر رکنے والی کھیپوں کی کلیئرنس متاثر ہو سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ تنازعہ 2021 سے چل رہا ہے۔ صوبائی انتظامیہ نے حال ہی میں پی ایس او کے ایک جہاز کو وقتی طور پر جاری کیا، مگر کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ آئندہ کارگو کلیئر کرنے کے لیے وہ سیس کی ادائیگی یا اس کی ضمانتیں فراہم کریں۔ صنعت کا موقف ہے کہ یہ سیس قیمت کے تعین کے نظام میں شامل ہی نہیں کیا گیا، اس لئے یکدم ادائیگی عملی طور پر ناممکن ہے۔

عدالتی پس منظر بھی پیچیدہ ہے: سندھ ہائی کورٹ نے اس معاملے پر پہلے حکم امتناع دیا تھا مگر بعد میں دو رکنی بینچ نے اسے ختم کر کے سیس کی ادائیگی کا حکم دیا۔ کمپنیوں نے سپریم کورٹ تک رجوع کیا مگر وہاں بھی معاملہ اسی سمت گیا۔ اس کے بعد صوبائی کابینہ نے 6 اکتوبر 2025 کو فیصلہ کیا اور کمپنیوں کو 15 دن میں بینک گارنٹی جمع کرانے کا نوٹس دیا گیا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل (ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن وِنگ) سندھ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے 17 اکتوبر کو وفاقی وزیرِ پٹرولیم کو ایک خط لکھا جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی درخواست کی گئی۔ صوبائی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر بینک گارنٹ نہ دیے گئے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تیل کی کمی یا فراہمی میں خلل کی ذمہ داری آئل کمپنیوں پر عائد کی جائے گی۔

صنعتی نمائندے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر واقعی کمپنیوں کو 180 ارب روپے کی مد میں واجبات ادا کرنے پر مجبور کیا گیا تو پورا پیٹرولیم سیکٹر سست پڑ سکتا ہے — جس کے نتیجے میں ملک گیر سطح پر ایندھن کی کمی اور قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔ وفاقی وزارتِ پٹرولیم سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ ثالثی کر کے معاملہ حل کروائے تاکہ تیل کی بلاوقفہ فراہمی برقرار رہے۔

📝 اہم نکات — ایک نظر میں

تنازعہ شروع: 2021۔

صوبائی فیصلہ: صوبائی کابینہ نے 6 اکتوبر 2025 کو بینک گارنٹی ہدف مقرر کیا۔

وفاقی پیغام: 17 اکتوبر کو وزیرِ پٹرولیم کو خط ارسال۔

دعویٰ: سندھ کا مطالبہ ≈ 180 ارب روپے۔

خطرہ: اگر گارنٹیاں نہیں آئیں تو تیل کی کلیئرنس رک سکتی ہے اور سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates