پشاور یونیورسٹی کے تدریسی و غیر تدریسی عملے کو گزشتہ ایک سال سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سامنا ہے، جس کے باعث ملازمین شدید مالی مشکلات میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ یونیورسٹی کے ملازمین کا کہنا ہے کہ مسلسل تاخیر نے ان کی روزمرہ زندگی، بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے جیسے بنیادی معاملات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مالی بحران کی سنگینی
عملے کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث:
گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے
کرایہ، بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی ممکن نہیں رہی
ملازمین قرض لینے پر مجبور ہو چکے ہیں
کئی ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، مگر مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
تعلیمی سرگرمیوں پر اثرات
تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے نہ صرف ملازمین بلکہ تعلیمی ماحول کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث:
تدریسی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے
طلبہ کی تعلیم اور امتحانی نظام دباؤ کا شکار ہے
انتظامی امور میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں
اساتذہ اور اسٹاف کا کہنا ہے کہ مالی دباؤ کے باوجود وہ ادارے کی ساکھ اور طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
عملے کے مطالبات
یونیورسٹی عملے نے مطالبہ کیا ہے کہ:
واجب الادا تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں
آئندہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے
ادارے کے مالی مسائل کا مستقل حل نکالا جائے
عملے نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو وہ احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
نتیجہ
پشاور یونیورسٹی کے عملے کو گزشتہ ایک سال سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جو نہ صرف ملازمین بلکہ پورے تعلیمی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ اس صورتحال کا فوری اور مؤثر حل ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ ادارے کا تعلیمی ماحول اور عملے کی فلاح دونوں کو بچایا جا سکے۔
