پنجاب حکومت نے صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نفرت انگیزی و اشتعال پھیلانے کی روک تھام کے لیے سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل نگرانی کا دائرہ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق فتنہ انگیز اور انتہاپسند عناصر کے علاوہ کسی مذہبی جماعت پر پابندی نہیں ہوگی، اور مذہبی جماعتیں ضابطہ اخلاق کے مطابق اپنی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رکھ سکیں گی، جبکہ ہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرنے والی جماعتوں کی مکمل سرپرستی کی جائے گی۔ امن و امان سے متعلق غیر معمولی اجلاس میں طے پایا کہ پنجاب میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے یا چھپانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور سوشل میڈیا پر نفرت، جھوٹ اور اشتعال پھیلانے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کی نگرانی کے لیے اسپیشل یونٹس بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ پنجاب امن کا گہوارہ ہے اور اسے انتشار کا میدان بننے نہیں دیا جائے گا۔