حکومت نے دوسری شادی کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے پہلے سے متعلقہ اتھارٹی کی باقاعدہ اجازت لازمی قرار دے دی ہے۔
سابق ایف آر پشاور کے دفتر سے جاری ہدایات میں نکاح کی رجسٹریشن کے قواعد پر سختی سے عمل درآمد کا حکم دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ نے تمام سیکریٹریز کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی صورت میں قوانین کی خلاف ورزی نہ ہونے دی جائے۔
سرکلر کے مطابق کم عمری کی شادی کے اندراج سے قبل نادرا فارم، اسکول سرٹیفکیٹ یا پیدائش کا سرٹیفکیٹ لازمی طور پر چیک کیا جائے گا۔ عمر کی تصدیق کے بغیر کوئی درخواست منظور نہیں کی جائے گی۔
طلاق اور خُلع کی صورت میں مصدقہ دستاویزات جمع کرانا لازمی ہے، جبکہ بیوہ خواتین کو دوبارہ شادی کے لیے شوہر کا سرکاری ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔
سب سے اہم بات یہ کہ دوسری شادی کرنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی کی اجازت کا سرٹیفکیٹ منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ تمام شادیاں کونسل کے سرکاری نکاح رجسٹر میں درج کی جائیں اور تمام متعلقہ دستاویزات سالانہ رجسٹریشن ریٹرن کے ساتھ منسلک ہوں۔
مزید یہ کہ شادی کا ریکارڈ فوری طور پر آن لائن MIS سسٹم پر اپلوڈ کیا جائے، اور کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
دیہی سیکریٹریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چیئرمین، کونسل ممبران اور نکاح رجسٹرارز کو ان نئے قواعد سے مکمل طور پر آگاہ کریں تاکہ ہر سطح پر ان کا یکساں اطلاق یقینی بنایا جاسکے۔
