وفاقی حکومت کے حالیہ اقدام پر شدید ردِعمل سامنے آ گیا ہے، جہاں حکومتی طرزِ عمل کو کھلی مجرمانہ حرکت قرار دیتے ہوئے سخت نتائج کی وارننگ دی گئی ہے۔ ترجمان شفیع جان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو نہ صرف قانون بلکہ انسانی اقدار کے بھی سراسر منافی ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر عطا تارڑ کے اعتراف کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو چکا ہے اور اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ایک قیدی کو بغیر اس کے اہلِ خانہ کو اطلاع دیے، نامعلوم مقام پر منتقل کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قانون میں اس عمل کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور یہ بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ وفاقی حکومت کے اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس پر اب سے کچھ ہی دیر بعد انتہائی سخت ردِعمل دیا جائے گا۔ شفیع جان کے مطابق، کسی بھی قیدی کو اس کے خاندان کو آگاہ کیے بغیر کہیں بھی لے جانا نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ ریاستی جبر کی بدترین مثال بھی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات سے نہ صرف اداروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ عوام میں شدید بے چینی بھی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی فوری وضاحت کی جائے، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ اگر اس معاملے پر فوری اور شفاف کارروائی نہ کی گئی تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سے بالاتر ہو کر کوئی اقدام قبول نہیں کیا جائے گا اور عوامی سطح پر اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔
