مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کے کروڑوں صارفین اپنے سام سنگ A اور M سیریز کے فونز میں موجود ایک خفیہ ایپلی کیشن کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جس کے بارے میں مختلف ڈیجیٹل رائٹس گروپس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے اور اسے بیرونی کمپنیوں تک منتقل کر سکتی ہے۔
لبنانی ڈیجیٹل رائٹس پلیٹ فارم SMEX نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ سام سنگ نے 2022 میں اسرائیلی کمپنی IronSource کے ساتھ ایک شراکت داری کی، جس کے تحت کمپنی کی ایپ AppCloud بعض سام سنگ ڈیوائسز میں پہلے سے انسٹال کی گئی۔ SMEX کے مطابق یہ ایپ صارف کے فون سے کئی اقسام کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے، جس میں IP ایڈریس، ڈیوائس انفارمیشن، لوکیشن ڈیٹا اور دیگر ذاتی معلومات شامل ہوسکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق AppCloud ڈیوائس میں موجود ایک اور پروگرام Aura کو خودکار طور پر انسٹال کرتا ہے، جو پس منظر میں اضافی سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے۔ صارفین اور ماہرین کے مطابق یہ ایپ نہ صرف ڈیلیٹ کرنا مشکل ہے بلکہ بعض صورتوں میں دوبارہ خود بخود انسٹال ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی اور پرائیویسی کے خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ابھی تک کسی ریاست یا حکومت کی جانب سے اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات سامنے نہیں آئیں، تاہم اس قسم کے سافٹ ویئرز حساس خطوں میں صارفین کی نگرانی، سائبر حملوں اور ڈیٹا لیک کے خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف تنظیمیں کمپنیوں سے زیادہ شفافیت اور صارفین سے ان کے ڈیٹا کے استعمال کی واضح اجازت لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
SMEX کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ برسوں میں خطے میں کمیونیکیشن سسٹمز اور ڈیجیٹل آلات کو ہدف بنانے کے واقعات نے عوامی خدشات کو پہلے ہی بڑھا رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں آزاد اور محفوظ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
سام سنگ نے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی، تاہم عالمی ماہرین کے مطابق ایسی رپورٹس سامنے آنے کے بعد کمپنیوں کو صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے اعتماد بحال کرنے کے لیے مزید شفافیت اختیار کرنا ہوگی۔
