معذور افراد (PWDs) کو بااختیار بنانے کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے جمعرات کے روز بلاسود قرضوں اور مالی معاونت کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور معذور افراد میں معاشی خودکفالت کو فروغ دینا ہے۔
یہ اعلان چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقدہ “کومک سپورٹ فنڈ” کی صوبائی کونسل کے دوسرے اجلاس کے دوران کیا گیا۔
اجلاس میں اہم حکام نے شرکت کی، جن میں پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی، چیف سیکرٹری شکیل قادر خان اور معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندگان شامل تھے۔
وزیراعلیٰ بگٹی نے فلاحی اقدامات کی فوری اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے عملی نتائج سامنے آنے چاہئیں تاکہ کمیونٹی کو حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔
کونسل کے توسیع شدہ فلاحی پروگرام کے تحت معذور افراد کے لیے ماہانہ مالی امداد میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا، تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔
اجلاس میں خصوصی سازوسامان، بشمول الیکٹرک ویل چیئرز اور معاون آلات کی خریداری کی بھی منظوری دی گئی تاکہ ضرورت مند افراد کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔
کومک اینڈومنٹ فنڈ کے وسیع وژن کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد معذور افراد کو محتاجی سے نکال کر خود انحصاری کی طرف لے جانا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ معذور طلبہ کے لیے تعلیمی معاونت اور اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی، جو میٹرک سے لے کر پی ایچ ڈی تک کی سطحوں کا احاطہ کریں گی۔
وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ فنی و پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کو فروغ دیا جائے اور ہنر مندی کی تربیت اور نقل و حرکت کے آلات فراہم کیے جائیں، تاکہ معذور افراد معاشی اور سماجی زندگی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے تمام فلاحی اقدامات میں شفافیت اور جوابدہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے فوائد جلد از جلد صوبے بھر میں نمایاں ہونے چاہئیں۔
اجلاس میں شریک حکام نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ جامع حکمتِ عملی نہ صرف معذور افراد کو معاشی طور پر بااختیار بنائے گی بلکہ انہیں معاشرے میں مکمل طور پر شامل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
ان اقدامات کے ساتھ بلوچستان نے جامع ترقی کی جانب ایک اہم مثال قائم کی ہے، جس میں مالی معاونت، تعلیم اور ہنر مندی کے مواقع کو یکجا کیا گیا ہے۔
