ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر گمراہ کن اور بے بنیاد الزامات لگانے سے متعلق زیرِ سماعت مقدمے میں عدالت نے ملزم سہیل آفریدی کی مسلسل عدم حاضری کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ملزم کو متعدد مواقع فراہم کیے گئے، تاہم وہ بغیر کسی قابلِ قبول وجہ کے عدالت میں پیش نہیں ہوا، جس کے باعث عدالتی کارروائی متاثر ہوئی۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کرتے ہوئے متعلقہ پولیس کو حکم دیا ہے کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے بلا تاخیر عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی فرد کو عدالتی عمل سے فرار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مسلسل غیر حاضری کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا۔
عدالتی حکم کے مطابق، پولیس حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وارنٹ گرفتاری پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور گرفتاری سے متعلق رپورٹ مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش کی جائے۔
مزید برآں عدالت نے واضح کیا کہ اگر ملزم آئندہ بھی عدالتی احکامات کی تعمیل میں ناکام رہا تو قانون کے تحت مزید سخت اقدامات بھی عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔
یہ مقدمہ ریاستی اداروں کے وقار، عوامی اعتماد اور قانون کی بالادستی کے تناظر میں اہم نوعیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس پر عدالتی کارروائی آئندہ سماعت میں بھی جاری رہے گی۔
