اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران پٹرولیم لیوی سے کل 371 ارب روپے جمع کیے، جو پچھلے سال اسی عرصے میں جمع شدہ 261 ارب روپے کے مقابلے میں 42 فیصد اضافہ ہے۔ اس سہ ماہی میں اضافی طور پر 110 ارب روپے بھی جمع کیے گئے جو آئی ایم ایف کے مالی استحکام کے معاہدوں کے تحت کیے گئے مالیاتی ایڈجسٹمنٹس کا حصہ ہیں۔
بجٹ میں مثبت رجحان
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے GDP کا 1.6 فیصد بجٹ سرپلس رپورٹ کیا ہے، جبکہ پرائمری بیلنس 2.7 فیصد رہا۔ یہ مضبوط ریونیو کنٹرول اور خرچ کی ڈسپلن کی عکاسی کرتا ہے، جو ملک میں مالیاتی اصلاحات کے لیے اہم قدم ہے۔
دیگر اہم ریونیو ذرائع
وفاقی آمدنی میں کچھ دیگر نمایاں اجزاء بھی شامل ہیں:
کاربن لیوی: 10 ارب روپے
EV ایڈاپشن لیوی: 3 ارب روپے
این ایف سی کے تحت صوبائی ٹرانسفرز: 1,775 ارب روپے
صوبائی تقسیم
صوبائی مالی امداد کی تقسیم کچھ یوں رہی:
پنجاب: 882 ارب روپے
سندھ: 441 ارب روپے
خیبر پختونخوا: 287 ارب روپے
بلوچستان: 164 ارب روپے
اقتصادی پس منظر
یہ ترقیات ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان فِسکل ریفارمز کے اہداف کو پورا کرنے کی جانب گامزن ہے، اگرچہ عالمی توانائی کی قیمتوں اور ملکی اقتصادی ایڈجسٹمنٹس کے دباؤ کے باوجود آمدنی میں مستحکم اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت نے مالی نظم و ضبط، ٹیکس کلیکشن اور صوبائی شراکت داری کے مؤثر نظام کے ذریعے مثبت مالیاتی رجحان برقرار رکھا ہے۔
اختتامیہ
یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی حکومت نے ریونیو بڑھانے اور اخراجات میں نظم و ضبط کے ذریعے اقتصادی استحکام کی جانب اہم اقدامات کیے ہیں، جو مستقبل میں مالیاتی پالیسی اور معاشی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
