پی آئی اے کی نجکاری کا پہلا مرحلہ مکمل، تین بولی دہندگان میدان میں
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں بولی کا مرحلہ باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ قومی ایئرلائن میں کنٹرولنگ شیئر حاصل کرنے کے لیے تین پری کوالیفائیڈ بولی دہندگان نے سیل بند مالی پیشکشیں جمع کرا دی ہیں۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی نجکاری کے پہلے مرحلے کی تکمیل ہو گئی ہے، جو حکومت کے وسیع تر معاشی اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق حکومت کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت سے 100 ارب روپے سے زائد کی بولیوں کی توقع ہے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق بولی دہندگان میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ کی قیادت میں ایک کنسورشیم، ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ جو لیک سٹی ہولڈنگز کے ساتھ شراکت میں ہے، اور عارف حبیب گروپ کی کمپنیوں پر مشتمل ایک کنسورشیم شامل ہیں۔
فوجی فرٹیلائزر کمپنی، جو پہلے اس عمل کا حصہ تھی، بعد ازاں نجکاری کے عمل سے دستبردار ہو گئی۔
ٹرانزیکشن مینیجر عبدالباسط نے میڈیا کو بتایا کہ تمام شارٹ لسٹ بولی دہندگان کو ڈیٹا روم تک مکمل رسائی دی گئی تھی اور موصول ہونے والی بولیوں کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کا عمل دو مراحل پر مشتمل ہے، جس میں پہلے بولیوں کی وصولی اور پھر ان کا باضابطہ افتتاح شامل ہے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سیل بند بولی باکس کو میڈیا کے سامنے رکھا گیا۔
حکام کے مطابق بولیاں آج سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر اسلام آباد میں بولی دہندگان کی موجودگی میں کھولی جائیں گی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ملک کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی معاشی سرگرمیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں کوئی بڑی نجکاری نہیں ہو سکی اور امید ظاہر کی کہ مضبوط بولیوں کے نتیجے میں ایئرلائن میں مؤثر سرمایہ کاری ہو گی۔
نجکاری کے تحت حکومت پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کر رہی ہے جبکہ 25 فیصد حصص اپنے پاس رکھے گی، جنہیں بعد ازاں کامیاب بولی دہندہ خریدنے کا اختیار رکھے گا۔ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد براہِ راست پی آئی اے کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا جبکہ 7.5 فیصد حکومت کو جائے گا۔
حکام کے مطابق یہ نجکاری محض فروخت نہیں بلکہ پی آئی اے کی بحالی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس مقصد کے لیے پانچ سالہ بزنس پلان پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہے، جس کے تحت ایئرلائن کے بیڑے کو 18 طیاروں سے بڑھا کر تقریباً 38 طیاروں تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں نئے طیاروں کے لیز پر 18 فیصد جی ایس ٹی استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔
مسافروں کی سالانہ تعداد چار ملین سے بڑھا کر سات ملین تک پہنچانے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے، جس کے لیے روٹس اور سروسز میں توسیع کی جائے گی۔
پی آئی اے کی نجکاری میں سب سے بڑی رکاوٹ بھاری قرضوں کا بوجھ تھا، جسے دور کرنے کے لیے حکومت نے 654 ارب روپے کے قرضے اور واجبات اپنے ذمے لے لیے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
پی آئی اے ملازمین کو نجکاری کے بعد کم از کم ایک سال تک ملازمتوں کا تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اس مدت کے بعد کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا فیصلہ ایئرلائن کے ری اسٹرکچرنگ پلان کے مطابق کیا جائے گا۔
پرائیویٹائزیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بولی کا پورا عمل شفاف اور قواعد کے مطابق جاری ہے، جو وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اصلاحاتی وژن کا حصہ ہے۔
