حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کی نجکاری رواں سال کے اندر مکمل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ خریداروں کو کسی قسم کی حکومتی گارنٹی فراہم نہیں کی جائے گی۔ یہ بات چیئرمین پرائیویٹائزیشن کمیشن محمد علی نے پیر کے روز نجی ٹی وی کے پروگرام نیوز انسائٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
محمد علی کے مطابق آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی فروخت پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس کے علاوہ کسی قسم کی یقین دہانی یا مالی ضمانت خریداروں کو نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور صوبائی حکومتوں کے لیے ایئر لائنز چلانا یا کاروبار سنبھالنا ممکن نہیں ہوتا۔
نجکاری کے سست عمل سے متعلق سوال پر چیئرمین نے وضاحت کی کہ حکومت نے پہلے چھوٹے اور کم پیچیدہ اداروں سے آغاز کیا، جیسے فرسٹ ویمن بینک کا جزوی انتقال، اور اب بڑے اداروں، خصوصاً پی آئی اے کی جانب پیش رفت کی جارہی ہے۔
G2G ڈیلز پر محتاط مؤقف
محمد علی نے حکومتی سطح پر ملکوں کے درمیان ہونے والی (G2G) ڈیلز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کمزور معاشی پوزیشن، بدعنوانی اور گورننس کے مسائل ایسے معاہدوں میں ملک کا مؤقف کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی معاشی طاقتیں ایسی صورتحال میں زیادہ اثرورسوخ حاصل کرلیتی ہیں، اس لیے شفاف اور مسابقتی نجکاری پاکستان کے مفاد میں بہتر ہے۔
کے الیکٹرک شیئرز اور مستقبل کی نجکاری
چیئرمین کے مطابق وفاقی حکومت ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کر پائی کہ کے الیکٹرک کے شیئرز کی منتقلی کی منظوری نیپرا دے گا یا خود حکومت۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کے الیکٹرک کی سابقہ نجکاری میں مناسب جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ سال آئیسکو (IESCO)، فیسکو (FESCO) اور گیپکو (GEPCO) کی نجکاری کا بھی ارادہ رکھتی ہے، جبکہ ترک ماڈل پر غور کیا جارہا ہے جس کے تحت نجی کمپنیاں لمبے عرصے تک کنسیشن پر یوٹیلٹی سروسز چلاتی ہیں۔
ایئرپورٹس کا مستقبل اور گیس سیکٹر کی اصلاحات
محمد علی کے مطابق کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کو توسیع کے لیے تقریباً ایک ایک ارب ڈالر درکار ہیں، جو نجی آپریٹرز ایئرپورٹس کے آؤٹ سورس ہونے کے بعد خود فراہم کریں گے۔
گیس سیکٹر پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں اور اگر اس شعبے کو آگے بڑھانا ہے تو سوئی گیس کمپنیوں کی نجکاری کرنا ہوگی۔
حکومت کے ان فیصلوں سے واضح ہوتا ہے کہ نجکاری کا عمل اب سخت شرائط اور مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ قومی اداروں کو بحال کرنے کے بجائے نجی سرمایہ کاری اور بہتر انتظامی ماڈلز پر انحصار کیا جائے گا۔
Hide comments
