پنجاب میں آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے اہم اور فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کر دیا گیا ہے، جن میں ریسکیو 1122 میں نیا فائر انسپکٹوریٹ یونٹ قائم کرنے اور صوبے کی 9 ڈویژنز میں 1,197 مقامات پر واٹر ہائیڈرنٹس نصب کرنے کے احکامات شامل ہیں۔
یہ فیصلے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں کیے گئے، جس میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے بھر میں فائر سیفٹی کے نظام، عملی نفاذ، نگرانی اور ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اہم فیصلے
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ:
ریسکیو 1122 میں فائر انسپکٹوریٹ یونٹ قائم کیا جائے گا
جدید ہائی ایکسپینشن فوم جنریٹرز کو فائر فائٹنگ میں استعمال کیا جائے گا
کمرشل عمارتوں کو فائر ہائیڈرنٹس نصب کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے، جس کے بعد سخت کارروائی کی جائے گی
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ:
ہر ملٹی اسٹوری اور ہائی رائز عمارت میں واٹر ہائیڈرنٹس نصب ہوں
باہر کی جانب وینٹی لیٹڈ ایمرجنسی سیڑھیاں لازمی بنائی جائیں
ہائی رائز عمارتوں میں اسموک ڈیٹیکٹرز اور CCTV کیمرے نصب کیے جائیں
بڑے کمرشل پلازوں میں فرسٹ ایڈ کٹس اور آکسیجن سلنڈرز لازمی ہوں
خصوصی مارکیٹس کے لیے اقدامات
وزیراعلیٰ نے کیمیکل، گتے، کپڑے، سلنڈرز اور دیگر آتش گیر مواد سے متعلق مارکیٹس کے لیے خصوصی تربیت (Specialized Training) کی منظوری دی۔
انہوں نے ہدایت دی کہ:
تمام مارکیٹس کے داخلی و خارجی راستوں سے تجاوزات ختم کی جائیں
لاہور کے شاہ عالم مارکیٹ سمیت گنجان علاقوں میں فوری آپریشن کیا جائے
سخت نگرانی اور سزا
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ:
فائر فائٹنگ آلات اور الارمز کی ایکسپائری ڈیٹس چیک کی جائیں
ناقص یا غیر فعال آلات کی صورت میں عمارت سیل اور مالکان کے خلاف کارروائی ہوگی
نجی اور سرکاری عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات لازمی ہوں گے
انہوں نے اعلان کیا کہ:
ماہانہ فائر موک ڈرلز تمام اضلاع میں ہوں گی
فائر سیفٹی اقدامات کو کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے KPIs میں شامل کیا جا رہا ہے
حادثات پر اظہارِ افسوس اور ذمہ داری کا تعین
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کراچی کے گل پلازہ حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ:
لاہور میں آگ لگنے کے واقعے کے وقت 25 منزلہ ہوٹل میں 300 افراد موجود تھے
بروقت SOPs اور ریسکیو کارروائی سے بڑا سانحہ ٹل گیا
300 افراد کا مطلب 300 خاندان ہیں
انہوں نے ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان اور ریسکیو ٹیموں کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے پانچ منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر قیمتی جانیں بچائیں۔
غفلت پر سخت تنقید
وزیراعلیٰ نے کمرشل عمارتوں میں:
ایمرجنسی ایگزٹس کے غلط استعمال
ہوٹل کے بیسمنٹ میں لوگوں کی موجودگی
پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ:
آگ سے بچاؤ اور انخلاء کے عمل کو CCTV کے ذریعے مانیٹر کیا گیا
فائر سیفٹی قوانین پر روزانہ کی بنیاد پر عملدرآمد ضروری ہے
اضافی احکامات
وزیراعلیٰ نے مزید ہدایات جاری کیں کہ:
تین منزلہ عمارتوں کے بیسمنٹ میں بوائلرز یا آتش گیر مواد ذخیرہ نہیں کیا جائے گا
سلنڈرز کی صوبہ بھر میں جانچ ہوگی
غیر معیاری سلنڈر بنانے اور فروخت کرنے والوں کو سیل کیا جائے گا
ہر عمارت میں آٹومیٹک اسپرنکلر سسٹم نصب ہونا لازمی ہوگا
ویلڈنگ صرف محفوظ مقامات پر کی جائے کیونکہ چنگاریاں آگ کا باعث بنتی ہیں
لٹکتی تاریں بارش اور آگ دونوں کے لیے خطرہ ہیں
معاوضے کا اعلان
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ:
ہوٹل حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 1 کروڑ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا
حتمی وارننگ
وزیراعلیٰ مریم نواز نے دوٹوک الفاظ میں کہا:
کمرشل عمارتوں کو فائر ہائیڈرنٹس نصب کرنے کے لیے صرف ایک ماہ دیا جا رہا ہے، اس کے بعد کسی رعایت کے بغیر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ:
ریسکیو 1122 کو تمام وسائل، تربیت اور استعداد فراہم کی جائے گی
عمارتوں کی تعمیر کے دوران ڈیولپمنٹ اتھارٹیز فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرائیں گی
