Share This Article
دنیا کے سب سے طویل قید کی سزا پانے والے قیدیوں میں ایک نام عبداللہ غالب البرغوثی (Abdullah Ghaleb Barghouti) کا ہے، جنہیں اسرائیلی فوجی عدالت نے 67 عمر قیدوں اور 5,200 سال کی سزا سنائی۔
انہیں “Prince of the Shadow” (پرنس آف دی شیڈو) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے — ایک ایسا لقب جو ان کی خاموش مگر خطرناک موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
عبداللہ البرغوثی 1972 میں کویت میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی تعلق فلسطین کے علاقے بیت ریما (رام اللہ کے قریب) سے ہے۔
وہ ایک تعلیم یافتہ انجینئر ہیں اور ابتدائی عمر ہی میں حماس کی عسکری شاخ عزالدین القسام بریگیڈز سے وابستہ ہوئے۔
ان کی تکنیکی مہارت نے انہیں تنظیم میں ایک نمایاں مقام دلایا، اور وہ جلد ہی بم سازی کے ماہر کے طور پر جانے جانے لگے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، البرغوثی نے 2000 کی دہائی کے آغاز میں کئی بم حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری میں کردار ادا کیا۔
انہیں Sbarro ریسٹورانٹ حملہ (یروشلم، 2001) سمیت کئی واقعات میں بم فراہم کرنے اور تیار کرنے کا الزام ہے، جن میں مجموعی طور پر 67 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے۔
البرغوثی پر الزام ہے کہ وہ ان حملوں کے انجینئر تھے — یعنی وہ پسِ پردہ ان بموں کے بنانے اور نصب کرنے کے ذمہ دار تھے، جبکہ کارروائی دوسرے افراد نے انجام دی۔
مارچ 2003 میں اسرائیلی خفیہ ادارے Shin Bet نے ایک خفیہ کارروائی کے دوران انہیں گرفتار کیا۔
گرفتاری کے بعد ان پر کئی ماہ تک سخت تفتیش کی گئی، جس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، انہیں تشدد اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
2004 میں اسرائیلی فوجی عدالت نے انہیں درج ذیل سزا سنائی:
67 بار عمر قید + 5,200 سال اضافی قید
یہ سزا اسرائیل کی عدالتی تاریخ کی سب سے طویل سزا سمجھی جاتی ہے۔
عدالت کے مطابق، یہ سزا علامتی نوعیت کی ہے تاکہ وہ کبھی رہا نہ ہو سکیں۔
عبداللہ البرغوثی کو تنہائی قید (solitary confinement) میں رکھا گیا، جہاں وہ کئی سال اکیلے رہے۔
ان کی فیملی اور وکیلوں کے مطابق، انہیں طبی سہولیات، ملاقات اور تعلیمی مواد سے بھی محروم رکھا گیا۔
ان کی اہلیہ نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں دورانِ قید ہڈیوں کے فریکچر اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا ہوا۔
ان کے خلاف طرزِ سلوک پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا نے متعدد بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قید کے دوران البرغوثی نے ایک خودنوشت کتاب لکھی جس کا عنوان ہے:
“Prince of the Shadow: Engineer on the Road”
اس کتاب میں انہوں نے اپنی زندگی، نظریات، مزاحمت کی کہانی، اور فلسطینی جدوجہد کے فلسفے پر روشنی ڈالی۔
کتاب خفیہ طور پر جیل سے باہر پہنچی اور بعد میں عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوئی۔
البرغوثی کا نام اکثر قیدیوں کے تبادلے (Prisoner Swap) کی فہرست میں شامل رہتا ہے۔
2011 کے “Gilad Shalit Exchange” کے دوران بھی حماس نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، مگر اسرائیل نے ان کا نام خارج کر دیا۔
حماس انہیں “قومی مزاحمت کا ہیرو” قرار دیتی ہے، جبکہ اسرائیلی حکومت انہیں “خطرناک دہشت گرد” کہتی ہے۔
ان کی شخصیت آج بھی فلسطینی معاشرے میں قیدِ مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
