سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ گل پلازہ سے متاثرہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر متبادل دکانیں حوالے کر دی جائیں گی، جبکہ حالیہ سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے فی کس معاوضہ دیا جائے گا۔
کورنگی کازوے روڈ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور کہا کہ حکومت اس واقعے سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا، “کوئی بھی معاوضہ قیمتی جانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، تاہم حکومت متاثرین کی بھرپور مدد کرے گی۔”
مراد علی شاہ نے تصدیق کی کہ سندھ حکومت گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کرے گی اور اس میں موجود 1,300 دکانوں کی تعداد برقرار رکھی جائے گی، بغیر کسی توسیع کے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی نجی عمارتیں، جن میں مجموعی طور پر 850 دکانوں کی گنجائش ہے، عارضی منتقلی کے لیے پیش کی جا رہی ہیں، جبکہ سرکاری ملکیتی پلازے بھی استعمال میں لائے جائیں گے۔
ریلیف اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے یاد دلایا کہ ہر دکاندار کو عبوری مدت کے دوران گھریلو اخراجات کے لیے پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ سندھ حکومت کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کے تعاون سے آتشزدگی میں ضائع ہونے والے سامان کا مکمل معاوضہ بھی ادا کرے گی۔
کاروباری بحالی کے لیے سندھ انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ دکانداروں کو بغیر سود کے ایک کروڑ روپے تک کے قرضے فراہم کرے گا، جبکہ سود کی ادائیگی حکومت خود کرے گی۔
احتساب کے حوالے سے مراد علی شاہ نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ساتھ ہی سرکاری کوتاہیوں کا بھی اعتراف کیا۔
انہوں نے نئے حفاظتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی تمام عمارتوں کے لیے حفاظتی آڈٹ لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ جو عمارتیں حفاظتی تقاضے پورے نہیں کریں گی، انہیں بلا امتیاز سیل کر دیا جائے گا، تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
سندھ حکومت نے تیز رفتار اقدامات کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے قابل بنایا جائے گا، تاکہ ان کا روزگار بحال ہو اور شہر کے تجارتی مراکز پر اعتماد دوبارہ قائم ہو سکے۔
