Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

سندھ کے کالجز میں جامع اصلاحات، طلبہ کونسلنگ، موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ

سندھ کے کالجز میں جامع اصلاحات، طلبہ کونسلنگ، موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ

سندھ کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کے سرکاری کالجز میں بڑی اور جامع اصلاحات کا اعلان کر دیا ہے، جن کے تحت طلبہ کے لیے کونسلنگ سروسز کے قیام اور کیمپسز میں غیر ضروری موبائل فون کے استعمال پر پابندی کو پالیسی اصلاحات کا مرکزی نکتہ بنایا گیا ہے۔ اس ضمن میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ فیصلے بدھ کے روز سندھ کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت سیکریٹری کالج ایجوکیشن نذیر میمن نے کی۔ اجلاس میں اساتذہ کی غیر حاضری، کمزور نگرانی کے نظام، اور متعدد کالجز میں غیر معیاری تعمیراتی کاموں جیسے اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

طلبہ کونسلنگ پروگرام کا آغاز

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ طلبہ کی ذہنی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے لیے ایک نیا کونسلنگ پروگرام شروع کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت:

  • تعلیمی ماہرین

  • سینئر بیوروکریٹس

  • مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز

کو بطور کونسلرز شامل کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو تعلیم، کیریئر اور ذاتی مسائل پر مؤثر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

موبائل فون کے غیر ضروری استعمال پر پابندی

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کالجز میں غیر ضروری موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ سیکریٹری کالج ایجوکیشن نے بتایا کہ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا، جس کا مقصد تعلیمی ماحول کو بہتر بنانا اور طلبہ کی توجہ تعلیم پر مرکوز رکھنا ہے۔

اساتذہ کی غیر حاضری کے خلاف کارروائی

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ:

  • 44 مرد اساتذہ

  • 36 خواتین اساتذہ

طویل عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں۔ اس پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ:

  • ان اساتذہ کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی

  • تمام کیسز چیف سیکریٹری سندھ کو ارسال کیے جائیں گے

  • متعلقہ افراد کے نام اخبارات میں عوامی نوٹس کے ذریعے شائع کیے جائیں گے

نگرانی اور انفراسٹرکچر کے لیے نیا نظام

تعلیمی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ انسپیکشن ونگز کو ضم کر کے ایک خودمختار مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے گا۔ یہ نیا ادارہ:

  • اساتذہ اور عملے کی حاضری

  • انفراسٹرکچر کے معیار

  • تعلیمی کارکردگی

پر سخت نگرانی کرے گا۔

کالج انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ یونٹ

سیکریٹری نذیر میمن نے ہدایت دی کہ ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے جس کے تحت کالج انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ یونٹ قائم کیا جائے۔ اس یونٹ کے ذریعے:

  • مستقبل کے تمام ترقیاتی منصوبے

  • قومی و بین الاقوامی ٹینڈرز کے ذریعے منتخب

  • پیشہ ور کنسلٹنگ فرمز کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے

تاکہ تعمیراتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔

طلبہ فلاح اور تعلیمی رسائی

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ طلبہ کی فلاح کے لیے:

  • کونسلنگ سروسز

  • موبائل فون پالیسی

کے ساتھ ساتھ “ایچ ون، ٹیچ ون” (Each One, Teach One) پروگرام بھی نافذ کیا جائے گا، جس کا مقصد اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لانا ہے۔

غفلت پر زیرو ٹالرنس پالیسی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری کالج ایجوکیشن نذیر میمن نے واضح کیا کہ:

محکمہ کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کرے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ:

  • فرائض کی انجام دہی میں ناکام افسران

  • کسی بھی رعایت یا امتیاز کے بغیر

سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کریں گے۔

نتیجہ

محکمۂ کالج ایجوکیشن سندھ کے ان فیصلوں کو صوبے کے کالجز میں تعلیمی معیار، نظم و ضبط، طلبہ کی فلاح اور شفاف حکمرانی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جن پر عملدرآمد کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates