Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

امریکا نے اپنے سفارت کاروں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

امریکا نے اپنے سفارت کاروں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

امریکہ نے سعودی عرب میں تعینات اپنے کچھ سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اسی دوران خدشات بڑھ رہے ہیں کہ ایران سے متعلق کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کو جنم دے سکتی ہے۔ حکام کے مطابق امریکی سفارتکاروں کو سعودی عرب چھوڑنے کا یہ حکم امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دیا گیا ہے تاکہ امریکی عملے اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ حکم زیادہ تر غیر ضروری عملے اور کچھ سفارتکاروں کے اہلِ خانہ پر لاگو ہوتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے جڑی کشیدگی بڑھنے کے باعث صورتحال غیر متوقع ہو سکتی ہے، اسی لیے واشنگٹن خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی تنصیبات کی سکیورٹی کے حوالے سے ممکنہ خطرات کے لیے تیاری کر رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی سفارتکاروں کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت اس خدشے کے باعث دی گئی ہے کہ یہ تنازع پڑوسی ممالک تک پھیل سکتا ہے یا خلیجی خطے کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس وقت امریکی عملے کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں، لیکن یہ احتیاطی اقدام صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

سعودی عرب خطے میں امریکہ کا ایک اہم اسٹریٹجک اتحادی ہے اور یہاں سفارتی و سکیورٹی تعاون جاری ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی عملے میں کمی کا فیصلہ ایک وسیع ہنگامی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جبکہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

اس سے قبل بھی امریکہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مختلف ممالک میں اپنے سفارتی عملے کی تعداد میں رد و بدل کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ضروری سفارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔

فی الحال حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں خطے کی کشیدگی کے مطابق مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates