Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

مریکہ کا تمام تیسرے دنیا کے ممالک سے ہجرت مستقل طور پر معطل کرنے کا اعلان

مریکہ کا تمام تیسرے دنیا کے ممالک سے ہجرت مستقل طور پر معطل کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز سخت نوعیت کی نئی امیگریشن پابندیاں متعارف کرواتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ تمام ’تیسرے دنیا کے ممالک‘ سے ہجرت کو مستقل طور پر روکنے جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نظام کو مستحکم کرنے اور بڑھتی ہوئی سکیورٹی خدشات کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر تھا۔

اپنے دیر رات کے سوشل میڈیا پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ “تمام تھرڈ ورلڈ ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر معطل” کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ کن ممالک کو اس زمرے میں شامل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایسے ممالک وہ ہیں جہاں غربت، عدم استحکام اور معاشی مشکلات زیادہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور ہونے والی “لاکھوں” امیگریشن درخواستوں کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو شخص امریکہ کے لیے “اثاثہ نہیں” ہوگا یا “امریکہ سے محبت نہیں کر سکتا” اسے ملک بدر کر دیا جائے گا۔ مزید کہا کہ غیر شہریوں کے لیے تمام وفاقی مراعات اور سبسڈیز ختم کر دی جائیں گی، جبکہ ملکی امن میں خلل ڈالنے والے مہاجرین اپنی قانونی حیثیت کھونے کا خطرہ مول لیں گے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ایک بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا۔ تحقیقات کے مطابق حملہ آور ایک افغان شہری تھا۔

واقعے کے بعد یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے کہا کہ ایجنسی تمام گرین کارڈ ہولڈرز کا دوبارہ جائزہ لے گی جو اُن کے بقول “تشویش کے ممالک” سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایجنسی نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں پر بھی فوری پابندی عائد کر دی ہے۔

واضح رہے کہ اس سال دوبارہ منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ امیگریشن کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ گزشتہ جون میں انہوں نے 19 ممالک کے لیے وسیع پیمانے پر سفری پابندی بھی نافذ کی تھی، جس میں افغانستان بھی شامل تھا۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates