Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ایوانِ بالا: نمائندگی یا رسمی کارروائی؟

“ایوانِ بالا اب اتنا بالا ہو چکا ہے کہ عوامی نمائندے صرف ووٹ ہی ڈالنے کے پابند ہیں، فیصلہ کوئی اور کرتا ہے۔”
— رسول بخش رئیس

یہ جملہ محض ایک طنزیہ تبصرہ نہیں بلکہ ہمارے پارلیمانی نظام پر ایک گہرا سوال ہے۔ یہ سوال اس نمائندگی پر ہے جس کے نام پر ایوان بنتے ہیں، قانون بنتے ہیں اور عوام سے مینڈیٹ لیا جاتا ہے۔


ایوانِ بالا کا تصور

ایوانِ بالا کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ قانون سازی میں تدبر، تسلسل اور صوبائی توازن کو یقینی بنایا جائے۔ یہ ایوان عوامی جذبات کے فوری دباؤ سے آزاد ہو کر طویل المدتی قومی مفاد میں فیصلے کرے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ تصور دھندلا گیا۔


ووٹ ڈالنے کی حد تک محدود نمائندگی

رسول بخش رئیس کے الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آج ایوانِ بالا میں بیٹھے کئی عوامی نمائندے فیصلہ ساز نہیں بلکہ فیصلہ تسلیم کرنے والے بن کر رہ گئے ہیں۔
ووٹ ڈالنا ان کا آئینی حق تو ہے، مگر سوال یہ ہے کہ:

  • کیا وہ آزادانہ رائے رکھتے ہیں؟

  • کیا قانون سازی میں ان کی سوچ شامل ہوتی ہے؟

  • یا صرف عددی توازن پورا کیا جاتا ہے؟


فیصلہ کون کرتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو اس جملے کو طاقت دیتا ہے۔ اگر فیصلہ کہیں اور ہو رہا ہے تو ایوان محض ایک رسمی مہر کیوں بن گیا؟
جمہوریت میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوام اور ان کے نمائندے ہوتے ہیں، مگر جب فیصلے ایوان سے باہر ہوں تو نمائندگی محض ایک دکھاوا بن جاتی ہے۔


ادارے، اثر و رسوخ اور سیاست

ایوانِ بالا کی “بلندی” دراصل اس فاصلے کی علامت ہے جو عوام اور فیصلوں کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔ یہ بلندی عوامی آواز کو کمزور اور طاقتور حلقوں کو مضبوط کرتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قانون عوام کے لیے نہیں بلکہ نظام کے تحفظ کے لیے بنتا ہے۔


نتیجہ

رسول بخش رئیس کا یہ جملہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:

  • کیا ہمارا پارلیمانی نظام واقعی عوام کی نمائندگی کر رہا ہے؟

  • یا نمائندگی صرف ووٹنگ مشین بن کر رہ گئی ہے؟

جب تک عوامی نمائندے فیصلوں میں حقیقی شریک نہیں ہوتے، ایوان جتنا بھی “بالا” ہو جائے، جمہوریت اتنی ہی کمزور ہوتی جائے گی۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates