“ہمارا یہاں کچھ بھی نہیں ہے، یہ ایک لاوارث شہر بن چکا ہے۔ کوئی گٹر یا نالے میں گر کر جان گنوا رہا ہے، تو کوئی آگ لگنے سے جل کر مر رہا ہے۔ یہ اجڑے ہوئے کراچی کی بہترین مثال ہے۔”
یہ الفاظ کراچی کے ایک شہری کے ہیں جو شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اپنے شدید غم و غصے اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور عوام اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہے ہیں۔
بنیادی سہولیات کی کمی
کراچی جیسے بڑے شہر میں کھلے گٹر، ٹوٹے ہوئے نالے، خستہ حال سڑکیں اور ناقص انفرااسٹرکچر روزمرہ زندگی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معمولی سی غفلت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
عوامی تحفظ پر سوالیہ نشان
حالیہ واقعات نے ایک بار پھر شہریوں کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کہیں گٹر میں گرنے کے حادثات، کہیں آگ لگنے کے واقعات—یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر کو فوری توجہ اور مؤثر انتظام کی ضرورت ہے۔
شہریوں کا مطالبہ
کراچی کے عوام حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ:
کھلے گٹر اور نالوں کو فوری طور پر بند کیا جائے
بنیادی انفرااسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے
شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
نتیجہ
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود شدید مسائل کا شکار ہے۔ شہریوں کی آواز یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہ شکوہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے شہر کی اجتماعی فریاد ہے۔
