Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

یہ نجم سیٹھی کا بیان بالکل حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔

آپ کے جواب پر جب ڈپلومیٹس کہتے ہیں:

“کیسے stable ہے؟ انڈیا کیساتھ یہ ہے، اِدھر یہ ہے، اُدھر وہ ہے۔۔۔”

تو وہ ملک کی geopolitical، اقتصادی اور سکیورٹی کے پہلوؤں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ یعنی:

پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی

داخلی سیاسی یا معاشی مسائل

ممکنہ غیر یقینی حالات

یہ سب چیزیں کسی ملک کو highly unstable بنا سکتی ہیں، چاہے وہ بظاہر رسمی یا عارضی طور پر مستحکم لگ رہا ہو۔

سادہ لفظوں میں، نجم سیٹھی کہہ رہے ہیں کہ stability کا مطلب صرف surface level پر نہیں ہوتا، بلکہ واقعی صورتحال میں خطرات اور غیر یقینی عناصر کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates