طورخم، خیبر کے پہاڑی سلسلوں کے بیچ واقع وہ سرحدی گزرگاہ ہے جو برسوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی زندگی کی علامت رہی ہے۔ مگر گزشتہ چند دنوں سے یہاں کا منظر یکسر بدل چکا ہے۔ دو طرفہ تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیاں اچانک رک جانے کے بعد سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کارگو گاڑیاں سرحد کے دونوں جانب جمود کی تصویر بنی کھڑی ہیں۔
پاکستان سے افغانستان جانے والے تازہ پھل، سیمنٹ، کپڑا، ادویات، میڈیکل آلات اور کھیلوں کا سامان اب رکے ہوئے قافلوں میں بند پڑا ہے۔ دوسری جانب، افغانستان سے درآمد ہونے والے خشک و تازہ پھل، کوئلہ اور معدنی اشیاء بھی طویل انتظار کی زنجیر میں جکڑ چکی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق صرف پاکستان کی سمت میں ہی دو ہزار سے زائد کارگو گاڑیاں پھنس چکی ہیں۔ ان میں وہ گاڑیاں بھی شامل ہیں جو ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ دونوں طرح کے سامان لے کر روانہ ہوئی تھیں۔ تاجر برادری اور ڈرائیور دونوں شدید پریشانی کا شکار ہیں، جبکہ علاقے میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔
اب سب کی نظریں اسی ایک سوال پر ٹکی ہیں — طورخم کا یہ تعطل کب ختم ہوگا؟ کیونکہ جب تک پہیے دوبارہ گردش میں نہیں آتے، خطے کی معیشت کی رفتار بھی ساکت ہی رہے گی۔
