امریکہ اور وینزویلا کے درمیان حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ امریکہ نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کر دیے ہیں، زمینی آپریشن جاری ہے اور وینزویلا کے صدر صدارتی محل چھوڑ کر ملک سے باہر چلے گئے ہیں، تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس وقت تک کوئی ایسی مصدقہ صورتحال موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف کھلی جنگ یا براہِ راست فوجی یلغار شروع کی ہو۔ دونوں ممالک کے تعلقات کئی برسوں سے شدید کشیدگی کا شکار ہیں، جن کی بنیاد سیاسی اختلافات، معاشی پابندیاں، تیل کے معاملات اور سفارتی تنازعات پر ہے، لیکن اس کشیدگی کا مطلب فوری جنگ نہیں ہوتا۔ امریکہ کی جانب سے زیادہ تر دباؤ سفارتی اور اقتصادی نوعیت کا ہے، جبکہ وینزویلا کی حکومت ان اقدامات کو جارحیت قرار دیتی رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ویڈیوز، پرانی تصاویر اور غیر مصدقہ دعوے اکثر جذبات کو بھڑکانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں موجودہ حالات سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نئی جنگیں شروع ہو چکی ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا کوئی باقاعدہ فوجی محاذ قائم نہیں ہوا۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہر خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کی جائے، کیونکہ غلط معلومات نہ صرف خوف اور بے یقینی پھیلاتی ہیں بلکہ عالمی حالات کو غلط انداز میں سمجھنے کا سبب بھی بنتی ہیں۔
Hide comments
