Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اے آر وائی نیوز کے لائیو پروگرام میں ہنگامہ، احسن اقبال کا ویڈیو لنک منقطع

اے آر وائی نیوز کے لائیو پروگرام میں ہنگامہ، احسن اقبال کا ویڈیو لنک منقطع

اے آر وائی نیوز کے ٹاک شو کی ایک لائیو نشریات اس وقت غیر متوقع صورتحال کا شکار ہو گئی جب وفاقی وزیر احسن اقبال کی ویڈیو لنک اچانک منقطع ہو گئی، جس کے باعث ناظرین میں لمحاتی تشویش پھیل گئی۔

احسن اقبال پروگرام کے میزبان وسیم بادامی کے ساتھ اسلام آباد میں واقع اپنی رہائش گاہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کر رہے تھے۔ دورانِ گفتگو وہ اچانک اسکرین سے نظریں ہٹاتے دکھائی دیے، اسی لمحے کمرے میں ایک نامعلوم شخص کے داخل ہونے کے مناظر سامنے آئے۔

اسی دوران ایک سخت مردانہ آواز سنائی دی جو کہہ رہی تھی،
“بند کرو اسے!”

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ مذکورہ شخص مبینہ طور پر وہ موبائل فون پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا جس کے ذریعے احسن اقبال پروگرام میں شریک تھے۔ اس دوران کیمرہ ہلنے لگا اور چند ہی لمحوں بعد اسکرین مکمل طور پر بلیک ہو گئی۔

ویڈیو لنک اچانک منقطع ہونے پر میزبان وسیم بادامی اور ناظرین حیران رہ گئے۔ وسیم بادامی نے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کرتے ہوئے فوری طور پر کمرشل بریک لے لی، تاہم اسٹوڈیو میں تناؤ واضح طور پر محسوس کیا گیا۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف سوالات اور خدشات کا اظہار کیا جانے لگا، جن میں وزیر کی سیکیورٹی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی شامل تھیں۔

کچھ دیر بعد احسن اقبال دوبارہ پروگرام میں شامل ہو گئے اور گفتگو کا سلسلہ بحال ہو گیا۔ میزبان وسیم بادامی نے ناظرین کی تشویش کے پیشِ نظر محتاط انداز میں احسن اقبال سے خیریت دریافت کی، جس پر انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا،
“سب ٹھیک ہے”،
اور سیاسی گفتگو دوبارہ شروع کر دی۔

بعد ازاں سیاسی و صحافتی حلقوں کی جانب سے قیاس آرائیوں کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایک صحافی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطاءاللہ تارڑ کے مطابق، انہوں نے پروگرام کے بعد احسن اقبال سے فون پر رابطہ کیا، جہاں وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق احسن اقبال نے وضاحت کی کہ پروگرام کے وقت ان کے اسلام آباد کے گھر میں خاندانی تقریب جاری تھی اور بچے اچانک اسٹڈی روم میں داخل ہو گئے تھے۔ شور شرابہ اور فون بند کرنے کی کوشش اسی گھریلو صورتحال کا نتیجہ تھی، نہ کہ کسی سیکیورٹی واقعے کا۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates