Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر، احسن اقبال کی زیرِ قیادت کمیٹی کی سفارشات

برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر، احسن اقبال کی زیرِ قیادت کمیٹی کی سفارشات

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کاروبار میں آسانی بہتر بنانے اور ٹیرف اسٹرکچر میں اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے آئندہ تین برسوں میں پاکستان کی برآمدات 60 ارب ڈالر سے زائد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

یہ کمیٹی وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی تھی، جس کا مقصد موجودہ 8.4 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کی مدت 2027 میں ختم ہونے کے بعد ایک اور پروگرام سے بچنے کے لیے قابلِ عمل حکمتِ عملی تیار کرنا ہے۔ کمیٹی نے 20 ترجیحی برآمدی مصنوعات میں سرمایہ کاروں اور خریداروں کے اعتماد کو نقصان پہنچانے کی بڑی وجہ پالیسیوں میں عدم تسلسل کو قرار دیا ہے۔

5 سے 9 جنوری کے دوران سرکاری و نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مرتب کی گئی رپورٹس کے مطابق، کمیٹی نے نشاندہی کی کہ تمام ترجیحی برآمدی مصنوعات اور چھ بڑے ایکسپورٹ ڈرائیورز مشترکہ رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ توانائی کے بلند اور غیر مستحکم نرخ برآمدی مسابقت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، کیونکہ بجلی اور گیس کے ٹیرف علاقائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ اور بار بار تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

پلاننگ کمیشن کے مطابق پاکستان میں کاروبار کی لاگت ساختی طور پر زیادہ ہے، جس کی وجوہات میں پیچیدہ ٹیکس نظام، الٹے ٹیرف، ایڈوانس انکم ٹیکس کٹوتیاں، سیلز ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر اور ورکنگ کیپیٹل کا مسلسل پھنس جانا شامل ہیں۔ ان مسائل کا سب سے زیادہ اثر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر پڑ رہا ہے۔

کمیٹی نے خبردار کیا کہ ٹیکس پالیسی، توانائی قیمتوں، ٹیرف ڈھانچے اور ریگولیٹری نظام میں بار بار اور غیر متوقع تبدیلیاں صنعتی منصوبہ بندی، توسیع اور پیداوار میں اضافے کو محدود کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں آرڈرز دیگر ممالک کو منتقل ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں ادارہ جاتی عدم ہم آہنگی اور ریگولیٹری بوجھ کو بھی بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور صوبائی اداروں کے درمیان ایس ایم ایز کی مختلف تعریفیں مالی سہولیات اور مراعات تک رسائی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

اس کے علاوہ مقامی معیار، ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کے ناکافی نظام کے باعث برآمد کنندگان کو بیرونِ ملک لیبارٹریز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے لاگت اور وقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سستے مالی وسائل تک محدود رسائی، بلند شرح سود اور سخت کولیٹرل شرائط بھی ویلیو ایڈیشن میں رکاوٹ ہیں۔

لاجسٹکس اور تجارتی سہولیات میں کمزوریاں، بشمول مہنگی اندرونِ ملک ٹرانسپورٹ، بندرگاہوں پر بھیڑ، سست کسٹمز کلیئرنس اور کولڈ چین انفراسٹرکچر کی کمی، برآمدات کو متاثر کر رہی ہیں۔ پورٹ قاسم پر خصوصی برآمدی ٹرمینلز اور مناسب اسٹوریج کی عدم دستیابی سے شپمنٹ میں تاخیر اور اخراجات بڑھ رہے ہیں۔

کمیٹی نے مہارتوں کے فقدان، کم ویلیو ایڈیشن اور کمزور برانڈنگ کو بھی برآمدات میں اضافے کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ پلاننگ کمیشن اب نجی شعبے کے سروے کے ذریعے مزید ڈیٹا اکٹھا کر رہا ہے تاکہ ’’اُڑان پاکستان‘‘ منصوبے کے تحت شعبہ جاتی اور ڈیٹا پر مبنی روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔

مشاورت کے اختتام پر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی ترقی، معاشی خودمختاری اور قومی سلامتی کا انحصار تیزی سے برآمدات بڑھانے اور ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ماڈل ا

 

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates