اسلام آباد/ابوظہبی — متحدہ عرب امارات (UAE) نے پاکستانی سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری داخلے کی باقاعدہ سہولت کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان-UAE مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جو دس سال بعد دوبارہ منعقد ہوا۔
اعلی سطحی مذاکرات اور اہم فیصلے
اعلیٰ سطحی مذاکرات میں دونوں ممالک نے معاہدہ جات (MoUs) پر دستخط کیے، جن کا مقصد مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے، جن میں شامل ہیں:
تجارت اور سرمایہ کاری
مالیاتی شعبہ
صحت و تعلیم
توانائی
جدید ٹیکنالوجی، بشمول مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت
اس کے علاوہ، مشترکہ ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو ویزا کے عمل کو آسان بنانے، سرمایہ کاری کے ڈھانچے کو بہتر بنانے، اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو فروغ دینے میں مدد دے گی۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو “پروڈکٹیو” قرار دیا اور کہا کہ اس سے پاکستان-UAE تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا سخت امیگریشن موقف
ویزہ فری اقدام اس کے برعکس ہے کہ UAE نے حالیہ برسوں میں پاکستانی شہریوں کے لیے امیگریشن قوانین سخت کیے ہیں۔
پچھلے سال 50,000 سے زائد پاکستانی ویزہ درخواستیں مسترد ہوئیں
غیر قانونی سرگرمیوں جیسے کہ گلیوں میں بھیک مانگنا اور ویزا اوور سٹے کے معاملات میں اضافہ ہوا
پاکستان سے آنے والوں کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفیکیٹ لازمی قرار دیا گیا
گزشتہ 16 ماہ میں 10,000 سے زائد پاکستانی ملک بدر کیے گئے، جن میں 4,740 سابق قیدی اور 5,800 افراد پر جرم کے الزامات تھے
احتیاط کے ساتھ پیش رفت
یہ ویزا فری سہولت صرف سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز پر لاگو ہے، عام پاکستانی شہریوں کے لیے نہیں۔ تاہم، مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام اور تجدید شدہ باہمی تعاون سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مستقبل میں مزید آسانیاں ممکن ہیں۔
نتیجہ
یہ اقدام پاکستان-UAE تعلقات میں اسٹریٹجک ری سیٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو باہمی احترام، معاشی تعاون اور محفوظ سفری سہولت کو ترجیح دیتا ہے۔
