Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

نجکاری کے بعد پی آئی اے کے ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا؟ عارف حبیب نے تفصیلات بتا دیں

نجکاری کے بعد پی آئی اے کے ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا؟ عارف حبیب نے تفصیلات بتا دیں

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد ملازمین کے مستقبل سے متعلق خدشات پر کامیاب بولی دینے والے کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب نے وضاحت کر دی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ایک قومی ادارہ ہے جس کی ماضی میں کارکردگی شاندار رہی ہے اور اس کے پاس تجربہ کار اور باصلاحیت افرادی قوت موجود ہے۔

عارف حبیب نے اعتماد کا اظہار کیا کہ نئے سرمائے کی بدولت ایئرلائن کو درپیش کئی دیرینہ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پی آئی اے کے پاس 18 سے 19 طیارے ہیں، جن میں سے صرف 13 سے 14 فعال ہیں۔ نئی انتظامیہ کے تحت پہلے مرحلے میں بیڑے کو بڑھا کر 38 طیاروں تک لے جانے کا منصوبہ ہے، جبکہ مستقبل میں مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق مزید توسیع کی جائے گی۔

ملازمین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عارف حبیب نے یقین دہانی کرائی کہ پی آئی اے کے عملے کو مکمل اعتماد اور ملازمت کا تحفظ فراہم کیا جائے گا، اور ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا تاکہ ایئرلائن کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ توسیعی منصوبوں کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی آئی اے کو مطلوبہ سطح کی سرمایہ کاری ملتی رہی تو ایئرلائن نہ صرف مضبوط آپریشنل کارکردگی دکھا سکتی ہے بلکہ ایوی ایشن سیکٹر میں اپنا کھویا ہوا مقام بھی دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بھی واضح کیا کہ پی آئی اے کے تمام ملازمین کو کم از کم ایک سال تک ملازمت کا تحفظ حاصل ہوگا، اور اس مدت کے دوران نئے مالکان کو کسی بھی ملازم کو برطرف کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پی آئی اے کے تمام اثاثے ایک ہولڈنگ کمپنی کے تحت رکھے گئے ہیں تاکہ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates