وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز Chaudhry Salik Hussain نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ کیے جانے والے بھکاریوں کے پاسپورٹس بلاک کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کو غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہیں دینا چاہتی، کیونکہ بھیک مانگنے کے لیے کوئی ویزا موجود نہیں ہے۔ بعض افراد سعودی عرب جانے کے لیے عمرہ ویزا حاصل کرتے ہیں اور وہاں جا کر بھیک مانگتے ہیں۔
وزیر نے مزید بتایا کہ مختلف جرائم میں ملوث ہزاروں افراد کے پاسپورٹس بلاک کر دیے گئے ہیں اور ان کے پاسپورٹس پانچ سال تک تجدید نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہیے، کیونکہ بار بار تبدیلیوں سے کاروباری طبقے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق 20 ہزار پاکستانیوں کو اسپین میں رہائش دی جائے گی۔ بیرونِ ملک ملازمت سے پاکستان کو زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے، اور گزشتہ سال ریکارڈ تعداد میں پاکستانیوں کو بیرونِ ملک بھیجا گیا۔
چوہدری سالک نے یہ بھی کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے افراد کے پاس ضروری سافٹ اسکلز موجود ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بیورو آف امیگریشن سے متعلق شکایات کا ازالہ کر دیا گیا ہے اور مزید بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
