Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ملالہ کی خاموشی کیوں؟ ایران پر آواز، غزہ اور پاکستان پر سوالیہ نشان

ملالہ کی خاموشی کیوں؟ ایران پر آواز، غزہ اور پاکستان پر سوالیہ نشان

شاباش ملالہ!
ایرانی حکومت کی مخالفت کر کے آپ نے اپنا نوبیل انعام حلال کر لیا (یورپ خوش ہو گیا)،
لیکن غزہ اور پاکستان کی عورتوں کے لیے آپ کی خاموشی بہت طویل اور پُراصرار ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے ایران کی حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے وہاں کی عورتوں اور لڑکیوں کے لیے آزادی کا مطالبہ کیا ہے — شاباش ملالہ۔
ملالہ چاہتی ہیں کہ ایران کی موجودہ حکومت ختم ہو اور ایک نئی حکومت آئے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ملالہ کو واقعی عورتوں اور لڑکیوں کا اتنا ہی درد ہے تو کیا غزہ میں عورتیں اور لڑکیاں موجود نہیں؟
کیا وہاں سب محفوظ ہیں؟
کیا غزہ میں تعلیم مل رہی ہے اور عزتیں محفوظ ہیں؟
اور کیا اسرائیل دن رات غزہ کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے؟

ملالہ نے ہمیشہ یورپ اور امریکہ کے مؤقف کی کھل کر حمایت کی ہے۔

پاکستان میں الیکشن چرائے گئے، انسانی حقوق سلب کیے گئے، لڑکیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا،
صنم جاوید، فلک جاوید اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو سزائیں دی گئیں — مگر ملالہ نے اس پر آج تک آواز بلند نہیں کی۔

البتہ جہاں کہیں یورپ، برطانیہ یا امریکہ کا مؤقف ہوتا ہے،
وہاں ملالہ لازمی ایک دو انٹرویوز دیتی ہیں اور ساتھ ہی ٹوئٹس کا سلسلہ بھی شروع کر دیتی ہیں۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates