Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

کہانی لکھنا بچوں کا کھیل نہیں — بشریٰ انصاری اور نادیہ خان کے درمیان شو میں گرما گرم مگر دلچسپ بحث

کہانی لکھنا بچوں کا کھیل نہیں — بشریٰ انصاری اور نادیہ خان کے درمیان شو میں گرما گرم مگر دلچسپ بحث

پاکستانی شوبز انڈسٹری میں جہاں ہر روز کوئی نیا موضوع زیرِ بحث آتا ہے، وہیں بعض اوقات ایک ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک دلچسپ اور قدرے تیکھا لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری اور معروف اداکارہ و میزبان نادیہ خان کے درمیان ایک نجی چینل کے ڈراما ریویو شو میں گفتگو نے بحث کی صورت اختیار کر لی، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب شو میں حال ہی میں آن ایئر ہونے والے ایک ڈرامے کی کہانی اور تکنیکی پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا تھا۔ نادیہ خان، جو اس شو کی مستقل جج ہیں، اس بار مہمان جج کے طور پر بشریٰ انصاری کے ہمراہ موجود تھیں۔ دونوں نے اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں ڈرامے پر رائے دی۔

گفتگو اس وقت دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب نادیہ خان نے ڈرامے کی کہانی پر خاصی سخت تنقید کر دی۔ اس موقع پر بشریٰ انصاری نے نہایت سنجیدہ مگر شائستہ انداز میں بات کو سنبھالتے ہوئے ڈرامہ رائٹرز کے حق میں آواز اٹھائی۔

بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ
“نادیہ، ہمارے بیچارے رائٹرز گھنٹوں تنہائی میں بیٹھ کر بڑی محنت سے کہانیاں بُنتے ہیں۔ لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہر کوئی اپنی اپنی کہانی سنانے لگ جائے تو رائٹرز کا فوکس متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ تحریر کے لیے یکسوئی اور خلوت بے حد ضروری ہوتی ہے۔
سینیئر اداکارہ نے واضح کیا کہ چاہے کہانی کو ایک نمبر دیا جائے یا دس، رائٹر اپنی محنت پوری ایمانداری سے کرتا ہے اور اس کوشش کا احترام ہونا چاہیے۔

بشریٰ انصاری کی اس بات پر نادیہ خان نے بھی مسکراتے ہوئے ردِعمل دیا اور کہا کہ اگرچہ ڈرامے کی کہانی میں نیا پن کم ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اسے تھمز اپ دیتی ہیں۔

یہ مکالمہ جہاں ناظرین کے لیے تفریح کا باعث بنا، وہیں اس نے ڈرامہ رائٹنگ جیسے حساس اور محنت طلب شعبے پر ایک سنجیدہ گفتگو کو بھی جنم دیا، جسے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates