کیلیفورنیا (02 فروری 2026):
یوٹیوب نے رواں برس مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے چینلز کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ایسے 16 بڑے چینلز کو ڈیلیٹ کر دیا ہے جو اے آئی سے تیار کردہ کم معیار کے مواد پر مبنی تھے۔
یوٹیوب کی جانب سے شروع کیے گئے اس کریک ڈاؤن کا مقصد پلیٹ فارم پر مواد کے معیار کو بہتر بنانا اور خودکار، اسپام پر مبنی چینلز کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام بتایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے تحت خاص طور پر ان چینلز کو نشانہ بنایا گیا جو انسانی محنت کے بغیر اے آئی کے ذریعے بڑی تعداد میں ویڈیوز تیار کر رہے تھے۔
آن لائن ویڈیو پلیٹ فارم کیپ وِنگ (Kapwing) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، حذف کیے گئے ان 16 نمایاں چینلز کے مجموعی ویوز 4 ارب 70 کروڑ سے زائد جبکہ سبسکرائبرز کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ تھی۔ ان چینلز پر موجود مواد عمومی طور پر کم معیار، بار بار دہرایا جانے والا اور خودکار آوازوں پر مشتمل تھا۔
کیپ وِنگ نے اس سے قبل نومبر 2025 میں جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں پہلی مرتبہ ایسے چینلز کی نشاندہی کی تھی، جس میں اے آئی کے ذریعے چلنے والے سب سے زیادہ سبسکرائب شدہ 100 غیر معیاری اکاؤنٹس کی فہرست شائع کی گئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان میں سے اکثر چینلز ایک جیسے موضوعات، ری سائیکل شدہ ویڈیوز اور خودکار وائس اوور استعمال کر رہے تھے۔
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد فہرست میں شامل 16 چینلز کو یا تو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا یا ان کی تمام ویڈیوز ڈیلیٹ کر دی گئیں۔ اندازوں کے مطابق یہ چینلز سالانہ تقریباً ایک کروڑ امریکی ڈالر کی آمدن حاصل کر رہے تھے۔
متاثرہ چینلز میں ایسے اکاؤنٹس بھی شامل تھے جو اینی میٹڈ نقل شدہ ویڈیوز، مذہبی کہانیوں کے طویل سلسلے اور وائرل انداز کی خودکار ویڈیوز شائع کر رہے تھے۔ بعض اکاؤنٹس اب بھی یوٹیوب پر موجود ہیں، تاہم ان پر کوئی ویڈیو دستیاب نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارروائی کا مقصد صرف آمدن روکنا نہیں بلکہ مخصوص غیر معیاری مواد کا خاتمہ تھا۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں یوٹیوب کے چیف ایگزیکٹو نیل موہن نے اعلان کیا تھا کہ کمپنی ایسے دہرائے جانے والے، کم محنت سے تیار کیے گئے اور فریب یا اسپام پر مبنی اے آئی مواد کے خلاف اقدامات میں مزید تیزی لا رہی ہے۔
